اگر بات آگے بڑھی اور مسئلہ حل ہوگیا تو ٹھیک ہے ورنہ ہم بمباری جاری رکھیں گے: صدر ٹرمپ



امریکہ سے آنے والی ایک خبر کے مطابق اتوار کی رات مذاکرات ہوئے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔
ایک اور خبر یہ ہے کہ ان مذاکرات میں مصر، ترکی اور پاکستان بطور ثالث شامل تھے۔ میرے خیال میں یہ بہت مستند رپورٹ ہے۔

گذشتہ ہفتے ریاض میں جمع ہونے والے عرب اور مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس جنگ کے دوران ایرانی اقدامات کی مذمت کی۔ تاہم اس اجلاس میں اسرائیل کے اقدامات خاص طور پر جنوبی پارس گیس کی تنصیب پر حملے کی بھی مذمت کی گئی۔


اس جنگ کے بڑھتے دائرہ کار اور فوجی اڈوں سے ہٹ کر اب اقتصادی اہداف پر حملے نے حقیقتاً اس خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔


خیال رہے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہوئی ہے تاہم ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے ان ’جعلی خبروں‘ کو تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

Previous Post Next Post