ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک نیا اور اہم خدشہ سامنے آ رہا ہے، اور وہ ہے سمندر کی تہہ میں بچھا ہوا عالمی انٹرنیٹ کا نظام۔ خلیج فارس کے قریب واقع Strait of Hormuz صرف تیل کی ترسیل کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی ڈیجیٹل رابطوں کے لیے بھی نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ اگر کسی جنگی صورتحال میں یہاں سے گزرنے والی انٹرنیٹ فائبر آپٹک کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی ڈیجیٹل نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہی زیرِ سمندر کیبلز خلیجی ممالک کو ایشیا، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہیں اور جدید دنیا کی بیشتر ڈیجیٹل سرگرمیاں انہی راستوں کے ذریعے ممکن ہوتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تقریباً 95 فیصد بین الاقوامی انٹرنیٹ ڈیٹا سمندر کے نیچے بچھے فائبر آپٹک نیٹ ورک کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے آس پاس کا علاقہ ان عالمی ڈیجیٹل راستوں میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں سے گزرنے والی کئی بڑی کیبلز مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ ان میں SEA-ME-WE، FLAG Europe-Asia اور AAE-1 جیسے بڑے کیبل سسٹمز شامل ہیں۔ اگر ان میں سے کسی بھی اہم کیبل کو نقصان پہنچتا ہے تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں United Arab Emirates، Qatar، Bahrain، Kuwait اور Oman شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی بڑی حد تک انہی سمندری راستوں پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ Pakistan اور India کی انٹرنیٹ ٹریفک کا بڑا حصہ بھی انہی کیبلز کے ذریعے یورپ اور دیگر خطوں تک پہنچتا ہے، اس لیے وہاں بھی انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی یا عارضی خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو ضروری نہیں کہ انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہو جائے، لیکن اس کی رفتار نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی ڈیٹا ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف منتقل کرنا پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں ویب سائٹس دیر سے کھل سکتی ہیں، ویڈیو اسٹریمنگ متاثر ہو سکتی ہے، آن لائن میٹنگز اور ویڈیو کالز میں رکاوٹ آ سکتی ہے اور کلاؤڈ سروسز کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر نہ صرف عام صارفین بلکہ بڑے کاروباروں، میڈیا نیٹ ورکس اور سرکاری اداروں تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ عالمی بینکنگ سسٹم، اسٹاک مارکیٹس، آن لائن تجارت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑا حصہ بھی انہی عالمی انٹرنیٹ نیٹ ورکس پر چلتا ہے۔ اگر بین الاقوامی ڈیٹا راستوں میں رکاوٹ آتی ہے تو مالیاتی لین دین میں تاخیر ہو سکتی ہے، آن لائن بزنس متاثر ہو سکتا ہے اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین جدید دور میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی اسٹریٹجک اہمیت دیتے ہیں۔
سمندر کے نیچے موجود فائبر آپٹک کیبلز کی مرمت بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لیے خصوصی مرمت کرنے والے جہاز اور زیرِ آب روبوٹ استعمال کیے جاتے ہیں، اور اگر کسی حساس یا جنگی علاقے میں کیبل کو نقصان پہنچے تو مرمت میں کئی دن بلکہ کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ تاریخ میں اس کی مثال بھی موجود ہے۔ 2008 میں Alexandria کے قریب چند انٹرنیٹ کیبلز کٹنے سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ شدید متاثر ہوا تھا، جس سے یہ واضح ہوا کہ عالمی انٹرنیٹ نظام کس حد تک زیرِ سمندر کیبلز پر منحصر ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی انٹرنیٹ مکمل طور پر ایک ہی راستے پر منحصر نہیں ہوتا۔ مختلف ممالک متبادل فائبر روٹس، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور اضافی کیبل نیٹ ورکس استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی ایک راستے کے متاثر ہونے کی صورت میں مکمل نظام بند نہ ہو۔ اس کے باوجود اگر خلیج فارس جیسے حساس اور اہم مقام پر انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور کی جنگوں میں زمین، سمندر اور فضا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بھی ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔
