تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ وعدوں کی پاسداری بامعنی مذاکرات کی پہلی بنیاد ہے، امریکا کا تاریخی عدم اعتماد مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں۔
پایبندی به تعهدات منطق موجه هر نوع گفتگوست. علاوه بر بیاعتمادی تاریخی عمیقی که در ایران نسبت به پیشینه رفتار و عملکرد دولت آمریکا وجود دارد، رویکرد غیرسازنده و متناقض مسئولین آمریکا در روزهای اخیر حاوی یک پیام تلخ است: آنها خواهان تسلیم ایرانند. مردم
انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایران ہتھیار ڈال دے، ایران طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، وعدوں کی پاسداری ہی وہ منطق ہے جو کسی بھی قسم کے مذاکرات کو جائز قرار دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی قسم کی طاقت یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اس کی خارجہ پالیسی خودمختاری اور قومی مفاد پر مبنی ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر نے تہران میں سرکاری حکام سے ملاقات میں کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ جنگ جلد از جلد ختم ہونی چاہیے۔ تاکہ ایران اپنے ملک کی تعمیر نو پر توجہ دے سکے، کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو حقائق سے باخبر رکھا جائے۔ غلط معلومات یا غیر حقیقی وعدے نہ صرف مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ کامیابیوں اور چیلنجوں دونوں کو ایمانداری سے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
