لاہور: 6 اہم ادویات کے حوالے سے ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جس میں ان ادویات کو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے پنجاب بھر کے میڈیکل سٹورز پر جعلی ادویات کی فروخت کا انکشاف کرتے ہوئے 6 اہم ادویات کے حوالے سے ایمرجنسی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ان ادویات کو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ڈریپ نے انہیں فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹانے اور سٹاک ضبط کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈریپ کا کہنا ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ میں ادویات کے مخصوص بیچ نمبرز غیر موثر اور جعلی ثابت ہوئے ہیں۔ آنکھوں کے قطرے (Galantram): آنکھوں کے قطرے (Galantram) جو موتیابند کے علاج کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جعلی پائے گئے ہیں، اور ان کے استعمال سے بینائی کو متاثر کرنے کا شدید خطرہ ہے۔
حمل اور خواتین کے دیگر طبی مسائل سے متعلق 3 مختلف ادویات کو بھی جعلی قرار دیا گیا ہے جب کہ فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی یہ دوا بھی غیر معیاری پائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ہارمون تھراپی اور ٹشو ری جنریشن کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجکشن بھی جعلی ثابت ہوا ہے۔
ڈریپ نے تمام صوبائی ڈرگ انسپکٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ میڈیکل سٹورز، فارمیسیوں اور تقسیم کاروں کے پاس موجود ان ادویات کے سٹاک کو فوری طور پر ضبط کر لیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان ادویات کے مخصوص بیچ نمبرز رجسٹرڈ فیکٹری کے بجائے غیر قانونی طور پر تیار کیے گئے تھے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادویات خریدتے وقت بیچ نمبر اور ڈریپ رجسٹریشن چیک کریں اور کسی بھی مشکوک دوا کی صورت میں فوری طور پر حکام کو آگاہ کریں۔
جعلی آئی ڈراپس اور ہارمونل ادویات کا استعمال مریض کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مستقل معذوری یا پیچیدہ بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے

Previous Post Next Post