جیکب آباد (3 جون 2026): پسند کی شادی کرنے والے جوڑے سدرہ چنہ اور محمد حسن برڑو کو سندھ ہائیکورٹ سے قانونی تحفظ مل گیا۔
پولیس حکام کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کو جوڑے کے تحفظ کا حکم دے دیا، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار خاتون بالغ ہے اور اپنی مرضی سے شادی کی۔
پولیس حکام نے بتایا کہ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، عدالت نے آئی او کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ 5 مئی کو سدرہ چنہ اور محمدد حسن نے مبینہ طور پر گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی، لڑکی کے رشتے داروں نے لڑکے کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ رشتہ داروں نے لڑکی کی واپسی کیلیے سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ بینچ میں درخواست دے رکھی ہے، عدالت نے پانچ جون کو دونوں اور دیگر فریقین کو طلب کر رکھا ہے۔25 مئی 2026 کو پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا دوسرا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سدرہ چنہ کا کہنا تھا کہ سردار احمد علی چنہ، بابو خان برو والدین کے حوالے کرنے پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اگر واپس کیا گیا تو احمد علی چنہ و دیگر مجھے قتل کروا دیں گے۔
لڑکی کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی بھی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا اور ہم غیر محفوط ہیں، ہم ایک مکان میں بند، خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ویڈیو بیان میں محمد حسن برڑو کا کہنا تھا کہ ہم دونوں کی زندگی غیر محفوظ اور شدید خطرے میں ہے۔
