شوہر سے پانی مانگتی ہوں تو اپنا پیشا۔ب میرے منہ میں کرتا میرے کپڑے اتار کر بر/ہنہ کر کے مجھے سڑک پر کھڑا کر دیا پہلے گنجا کیا پھر سارے جسم پر سگرٹ لگاتا رہا میرے دوستوں کے ساتھ ہم/بس/تری کرو

ردانے آج سے دس سال پہلے محبت کے نام پر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور پورے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جس شخص کے لیے وہ سب کچھ قربان کر رہی ہے، وہ اسے دنیا کی ہر خوشی دے گا۔ محبت کی چکاچوند میں اسے اپنے ماں باپ کی نصیحتیں اور دعائیں بھی بے معنی لگتی تھیں۔
وقت گزرتا گیا، شادی ہوئی، چار بچے پیدا ہوئے، مگر وہ محبت جس کے لیے ردا نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا، آہستہ آہستہ ظلم کی ایک خوفناک داستان میں بدل گئی۔ شوہر شراب کے نشے میں اسے بے رحمی سے مارتا، گالیاں دیتا، اس کی عزتِ نفس کو روندتا۔ کئی بار اسے کپڑے اتار کر گلی میں گھسیٹا گیا، اس کے بال مونڈ دیے گئے، اور اس کے جسم پر جلتی ہوئی سگریٹ سے ایسے نشان بنائے گئے جو شاید زندگی بھر نہ مٹ سکیں۔
لیکن ظلم کی انتہا تب ہوئی جب مار کھا کھا کر نڈھال ہونے والی ریتا پانی مانگتی تو اسے پانی کے بجائے ذلت دی جاتی۔ وہ شخص، جسے کبھی اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سہارا سمجھا تھا، اس کی انسانیت تک کو پامال کرنے لگا۔
آج ردا کی آنکھوں میں صرف ایک سوال ہے: کیا چند دنوں کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کا سایہ چھوڑ دینا درست فیصلہ تھا؟
یہ کہانی صرف ریتا کی نہیں، بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے ایک سبق ہے جو وقتی جذبات اور جھوٹی محبت کے وعدوں میں آ کر اپنے والدین اور خاندان کی محبت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ہر محبت بری نہیں ہوتی، لیکن کسی بھی فیصلے سے پہلے انسان کے کردار، اخلاق اور ذمہ داری کو جانچنا ضروری ہے۔
محبت صرف خوبصورت لفظوں کا نام نہیں، بلکہ عزت، تحفظ، اعتماد اور احترام کا نام ہے۔ جو شخص آپ کو آپ کے والدین سے کاٹ دے، ضروری نہیں کہ وہ زندگی بھر آپ کا سہارا بھی بنے۔
والدین کی نصیحتیں اکثر وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہیں، مگر بعض اوقات تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
Previous Post Next Post