اسلام آباد (4 جون 2026): اگلے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں کم سے کم ماہانہ اجرات کی تجویز بھی سامنے آ گئی ہے۔
اگلے مالی سال کا بجٹ رواں ماہ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے اور اس کے لیے تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ بجٹ میں اگلے سال کے لیے ملک میں کم سے کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے آئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی اور اس حوالے سے پائیڈ نے شواہد پر مبنی فریم ورک تجویز کر دیا ہے۔
اگر اگلے بجٹ میں پائیڈ کی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے تو کم سے کم ماہانہ اجرت میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا کیونکہ رواں مالی سال کے لیے کم سے کم اجرت 40 ہزار مقرر کی گئی تھی۔
پائیڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود معاملہ نہیں رہی بلکہ یہ گھریلو قوتِ خرید، غربت کے خدشات، غیر رسمی روزگار، مقامی طلب، پیداواری ترغیبات اور مجموعی سماجی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل عرصے میں اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی۔ اپریل 2026 میں سال بہ سال افراطِ زر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
