اسلام آباد (10 جون 2026): چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے پارٹی میں فارورڈ بلاک کے حوالے سے اہم بیان دے دیا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے صوبائی ارکان کے تحفظات دور کرنے کیلیے ملاقاتیں جاری ہیں، حکومت اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ان کے تحفظات ختم کریں گے۔
انہوں نے تردید کی کہ پارٹی میں اختلافات اپنی جگہ لیکن فارورڈ بلاک کا کوئی وجود نہیں، مبینہ فارورڈ بلاک وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف بالکل نہیں ہے، سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کی مکمل حمایت حاصل ہے، وہ تب تک عہدے پر رہیں گے جب تک عمران خان کا اعتماد ہے، عمران خان نے سہیل آفریدی کو نامزد کیا اور تمام ارکان ان کے ساتھ کھڑے ہیں، پارٹی کے اندر تمام اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا کا جائز حق مانگ رہے ہیں، صوبے کا حق سیاسی نہیں بلکہ عوامی مسئلہ ہے، این ایف سی ایوارڈ پر تمام جماعتوں کو ایک مؤقف اپنانا چاہیے، عوامی حقوق کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کی حمایت چاہتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ صوبے کے حصے اور حقوق کیلیے آواز اٹھا رہے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ عوام کے مفاد سے جڑا ہوا ہے، صوبے کے حقوق کے حصول کیلیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے، اس معاملے پر سیاست نہیں بلکہ عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس عوام کو دینے کیلیے کچھ نہیں بجٹ مایوس کن ہوگا، موجودہ بجٹ میں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے تھا مگر توقع نظر نہیں آتی، روپے کی قدر میں کمی اور ناقص معاشی پالیسیوں نے عوامی مسائل بڑھائے، ایف بی آر میں مؤثر اصلاحات نہ ہونے سے معاشی نظام بہتر نہیں ہو سکا۔
’حکومت اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری پلان دینے میں ناکام رہی۔ ملک کے عوام پہلے ہی ٹیکسوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ٹیکس مزید لگانے کے بجائے اب عوام کو ریلیف دیا جانا چاہیے۔ آئندہ بجٹ میں عوام کیلیے کسی بڑے ریلیف پیکج کی کوئی توقع نہیں۔‘
